ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / خلیجی خبریں / آربی آئی۔مرکزپھرٹکراؤکی راہ پر،ہنگامے دارہوسکتی ہے اگلی میٹنگ

آربی آئی۔مرکزپھرٹکراؤکی راہ پر،ہنگامے دارہوسکتی ہے اگلی میٹنگ

Wed, 28 Nov 2018 01:50:35    S.O. News Service

نئی دہلی:27/نومبر (ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)مرکزی حکومت آر بی آئی بورڈ کی اگلے ماہ ہونے والی میٹنگ کے دوران کچھ کمزور بینکوں کے قرض دینے پر لگی پابندیوں میں نرمی دینے کے ساتھ ہی مرکزی بینک کے کام کاج کے آپریشن کے قوانین کا جائزہ لینے کا دباؤ بنا سکتی ہے۔معاملے سے منسلک ذرائع نے یہ معلومات دی ہیں۔شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کیس سے وابستہ لوگوں نے بتایا کہ آربی آئی بورڈ میں مرکزی حکومت کی طرف سے نامزد ارکان کے ساتھ ساتھ دیگر رکن ان بینکوں کو نام نہاد پرامپٹ کریکٹو ایکشن کی فہرست سے باہر نکالنے کا دباؤ بنائیں گے، جن کی اقتصادی صحت میں بہتری آئی ہے۔اس فہرست میں عوامی شعبے کے کل 11بینک شامل ہیں جن کے قرض دینے پر آر بی آئی نے پابندی عائد کررکھی ہے۔ حکومت کی تجاویز سے یہ صاف واضح ہوتا ہے کہ 14دسمبر کو بورڈ کی ہونے والی میٹنگ ہنگامہ خیز ہوسکتی ہے۔مرکزی وزیر خزانہ اور آر بی آئی کے درمیان کئی مسائل کے درمیان تنازعہ ہے۔ان مسائل میں آر بی آئی سے حکومت کو سرپلس فنڈ کا ٹرانسفر، بینکوں کے قرض دینے کے قوانین میں نرمی اور غیر بینکاری مالیاتی کمپنی (این بی ایف سی)علاقے میں نقد رقم کی مقدار بڑھانا شامل ہیں۔اس ماہ کے شروع میں بی بی سی بورڈ کے اجلاس میں اگرچہ دونوں فریق نے مصالحت کے اشارے دیئے ہیں۔ذرائع نے کہا کہ آر بی آئی بیڈ لون کو لے کر صرف ان کے قرض دینے پر پابندی کے بجائے اسے روکنے کے لئے ایک منصوبہ بھی لے کر آنے والی ہے۔انہوں نے کہا کہ بورڈ کے رکن آر بی آئی کو مانٹری پالیسی ٹرانسمیشن سمیت کئی مسائل پر سپروائزری کنٹرول بڑھانے کے علاوہ، ایک پرامپٹ کریکٹو پلان لے کر آنے کے لئے بھی کہہ سکتے ہیں۔گزشتہ 25نومبر کو مرکزی اقتصادی امور کے سیکرٹری سبھاش چندر گرگ نے کہا کہ آر بی آئی بورڈ کے آئندہ اجلاس میں مرکزی بینک کے گورننس اسٹرکچر میں تبدیلی پر بات چیت کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔گور کے بیان کے بعدمرکز اور آر بی آئی کے درمیان عدم اطمینان واضح طور پر نظر آتاہے۔گور مرکزی حکومت کی طرف سے آربی آئی بورڈ میں نامزد رکن ہیں۔


Share: